18 اگست 2026 - 15:34
عبرانی اخبار: کیا نتن یاہو انتخابات سے پہلے سیاست چھوڑ سکتے ہیں؟

عبرانی اخبار معاریو کے سیاسی تجزیہ کار نے لکھا ہے کہ لیکوڈ کے اندر ہونے والے انتخابات اور تشویشناک عوامی جائزوں کے نتائج بینجمن نتن یاہو کے سیاسی مستقبل کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ تجزیے کے مطابق پارٹی کے اندر طاقت کا نیا توازن پیدا ہونے کی صورت میں نتن یاہو کی گرفت کمزور پڑ سکتی ہے اور وہ انتخابات سے پہلے ہی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، معاریو کے سیاسی تجزیہ کار افریم گانور نے „وہ منظرنامہ جو اسرائیل کو ہلا کر رکھ دے گا“ کے عنوان سے اپنے تجزیے میں لکھا ہے کہ لیکوڈ کے اندر ہونے والے انتخابات محض پارٹی کی اندرونی رقابت نہیں بلکہ اسرائیل کے سیاسی مستقبل اور نتن یاہو کی حیثیت پر بھی گہرے اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔

ان کے مطابق ان انتخابات کے نتیجے میں لیکوڈ کی موجودہ سیاسی ساخت تبدیل ہوسکتی ہے، جس کی شناخت گزشتہ برسوں میں سب سے بڑھ کر نتن یاہو کے نام سے رہی ہے، اور پارٹی کے اندر طاقت کا نیا توازن تشکیل پا سکتا ہے۔

گانور نے 7 اکتوبر کے بعد کی سیاسی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ لیکوڈ کی قیادت اور اسرائیلی حکومت میں نتن یاہو کی جگہ کسی اور کو لانے کا معاملہ پہلے ہی زیر بحث آچکا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پارٹی کے اندر ہونے والے انتخابات کے نتائج نتن یاہو کے سیاسی مستقبل پر نمایاں اثر ڈال سکتے ہیں، بالخصوص ایسے وقت میں جب دائیں بازو کے نئے دھڑے اور گلعاد اردان، یولی ایڈلشٹائن اور موشے فیگلین جیسے رہنما، جبکہ ممکنہ طور پر موشے کحلون اور یوآف گیلنٹ بھی، دائیں بازو کے سیاسی کیمپ میں طاقت کا نیا توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اسرائیلی تجزیہ کار نے آئندہ انتخابات سے متعلق سامنے آنے والے جائزوں کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ موجودہ صورتحال میں لیکوڈ آئندہ حکومت بنانے کے لیے درکار پوزیشن حاصل کرنے سے دور ہے۔

گانور کے مطابق اگر ان جائزوں کو ایسے امیدواروں کی فہرست کے ساتھ دیکھا جائے جو نتن یاہو کی پسند کے مطابق نہ ہوں تو وزیراعظم کو ایک مشکل سیاسی صورتحال کا سامنا ہوسکتا ہے اور وہ انتخابات سے قبل سیاست چھوڑنے سمیت کوئی بڑا فیصلہ کرنے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔

تجزیہ کار نے خبردار کیا کہ اگر نتن یاہو سیاست سے کنارہ کش ہوتے ہیں تو لیکوڈ میں ان کی جانشینی کی دوڑ پارٹی کے اندر مزید انتشار اور تقسیم کو جنم دے سکتی ہے۔

ان کے مطابق دائیں بازو کے نئے دھڑے لیکوڈ کے ارکان کی ناراضی سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، جبکہ اتمار بن گویر، اویگدور لائبرمین اور حتیٰ کہ گادی آئزن کوٹ جیسے رہنما بھی اس صورتحال سے سیاسی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں نتن یاہو کی قیادت والی لیکوڈ پارٹی کو شدید سیاسی کمزوری کا سامنا ہوسکتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha